اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے ہمیشہ تمام آپشن میز پر ہونے کی بات کہی ہے اور وہ ایران کو عالمی اور علاقائی سطح پر تنہا کرنے کی سازشیں کرتے رہے ہیں اور اب ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس پہنچتے ہی ایک بار پھر نیا ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے جس میں پہلے والی تمام خصوصیات موجود ہیں۔
امریکی حکام ان دنوں بڑے شد و مد کے ساتھ بیانات دے رہے ہیں اور وہ چھوٹے بڑے سب ہی طرح کے دعووں اور دھمکیوں کا اعادہ کر رہے ہیں۔ البتہ ان کا یہ رویہ، بہت زیادہ غیر متوقع بھی نہیں ہے۔
امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے دو ہفتے قبل اپنی چار سالہ کارکردگی اور اوباما حکومت کی آٹھ سالہ خارجہ پالیسی کے بارے میں ایک جائزہ رپورٹ پیش کی تھی۔ جان کیری نے اپنی رپورٹ کے ایک بڑے حصے میں ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کا ذکر کیا تھا اور آنے والی امریکی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایٹمی معاہدے کے باوجود ایران کے خلاف دباؤ بنائے رکھے تاکہ ایران کو بقول ان کے، اپنے میزائل پروگرام، دہشت گردی کی حمایت، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ہمسایہ ممالک میں عدم استحکام پھیلانے سے باز رکھا جا سکے۔
آج کے امریکی صدر اس وقت یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے بارے میں اوباما انتظامیہ کا موقف ٹھوس اور سنجیدہ نہیں تھا حالانکہ دونوں ہی ایران کے خلاف ایک مدار میں حرکت کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایران کے میزائل تجربے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام آپشن کھلے ہوئے ہیں۔
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ، اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کو سنگین نتائج کے حامل دو راہے پھر لاکھڑا کیا جائے۔ جس میں سے ایک یہ ہے کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے مجبور ہوجائے جنہیں وہ اپنی ریڈ لائن قرار دیتا ہے اور بصورت دیگر اسے امریکہ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا واضح مطلب یہ ہو گا کہ ایک عالمی معاہدہ اندر سے کھوکھلا ہو کر رہ جائے گا۔
البتہ یہ اقدام، اس سے پہلے کہ ایران کو نقصان پہنچائے، خود امریکہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری کے سامنے لاکھڑا کر دے گا۔
جیسا کہ ٹرمپ کو، اپنے امیگریشن آرڈی نینس اور سات اسلامی ملکوں پر دہشت گری کے الزامات کے نتیجے میں اندرون و بیرون ملک وسیع احتجاج اور مظاہروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حالانکہ دہشت گردی برآمد کرنے والے ملکوں کی امریکی فہرست میں سعودی عرب جیسے کسی بھی ملک کا نام دکھائی نہیں دیتا جس کے گیارہ شہری گیارہ ستمبر کے واقعے کے اصل ملزم قرار دیئے جاتے ہیں۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ، اب القاعدہ کے قیام میں امریکہ کے براہ راست کردار پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے اور ساتھ ہی ایران کے خلاف تمام آپشن، میز پر ہیں جیسے ہنگامہ خیز بیانات دے کر اس حقیقت کو بھی بھلانا چاہتے ہیں کہ اندرون ملک گن کلچر کے نتیجے میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں ہرروز درجنوں امریکی شہری مارے جا رہے ہیں۔
لیکن امریکی حکام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلامی انقلاب کے بعد کے اڑتیس برسوں کے دوران مسلط کردہ جنگ سے لے کر سخت ترین پابندیوں تک ہر قسم کی دھمکیوں کے باوجود اپنے اصولوں اور ریڈلائنوں پر کوئی سودے بازی نہیں کی اور تسلط پسند طاقتوں کے تمام ہتھکنڈوں اور دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169